15 ستمبر، 2026، 6:05 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

200 راتیں گزر گئیں؛ لیکن عہد و پیماں کا سلسلہ نہ رک سکا

200 راتیں گزر گئیں؛ لیکن عہد و پیماں کا سلسلہ نہ رک سکا

دو سو راتیں گزر چکی ہیں کہ بعض لوگوں کے لیے ان راتوں کا مطلب ہی کچھ اور ہو گیا ہے؛ وہ وقت جب گھر جانے کے بجائے سڑکوں کا رخ کرتے ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو انہی کی طرح تھکے اور فکرمند ہیں، لیکن ان کے پاس یہاں رکنے کی ایک دلیل ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی،ثقافت و ادب ڈیسک، زینب آزاد: دو سو راتوں سے لوگ رات کے وقت سڑکوں پر آ رہے ہیں... ابتدا میں شاید کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ تعداد دو سو تک پہنچ جائے گی۔ پہلی رات لوگ خبروں اور اپنی پریشانیوں کے ساتھ آئے۔ اس کے بعد آنے والی راتوں میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ کچھ لوگ پہلے پہنچے، کچھ دیر سے آئے، کچھ ہر رات موجود رہے اور کچھ جب بھی ممکن ہوا، خود کو یہاں پہنچاتے رہے۔ لیکن راتیں ایک ایک کرکے آتی اور گزرتی رہیں اور اب ہم دو سویں رات تک پہنچ چکے ہیں۔

دو سو راتیں، کوئی معمولی تعداد نہیں۔ اس عدد کے پیچھے صرف ایک کیلنڈر اور اس پر نشان لگے دو سو خانے نہیں ہیں۔ اس کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو اس عرصے میں تھکے، خوف زدہ ہوئے، اپنے پیاروں کی یاد میں تڑپے، غصے میں آئے، روئے اور پھر اگلی رات دوبارہ چل پڑے۔ ایسے لوگ جن کی زندگی رکی نہیں تھی؛ صبح انہیں کام پر جانا تھا، ان کے بچے تھے، گھر تھے، طرح طرح کی چھوٹی بڑی مصروفیات اور مشکلات تھیں، لیکن رات ہوتے ہی وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ سڑک پر لے آتے تھے۔

ذرا اس ماں کا تصور کیجئے جو اپنے بچے کا ہاتھ تھامے یہاں آئی ہے۔ ابتدا میں بچہ تجسس کے ساتھ اپنے اردگرد دیکھتا ہے، لوگوں کی آوازیں سنتا ہے اور سوالات کرتا ہے۔ چند گھنٹے گزرتے ہیں تو وہ اکتا جاتا ہے۔ وہ تھکا ہوا ہے۔ ماں کے قریب ہو کر اپنا سر اس کے ہاتھ پر رکھ دیتا ہے۔ ماں بھی بچے پر نظر رکھتے ہوئے ہجوم میں کھڑی رہتی ہے۔ نہ یہ کوئی ہیرو بننے کا منظر ہے، نہ کوئی غیر معمولی واقعہ۔ بس ایک ماں ہے، ایک بچہ ہے اور ایک اور رات ہے جسے گزرنا ہے۔

شاید مزاحمت اتنی ہی سادہ ہوتی ہے؛ یہ کہ انسان اپنی تمام تھکن کے باوجود پھر بھی آئے۔ اپنی معمول کی زندگی کو فراموش نہ کرے، لیکن یہ بھی نہ ہونے دے کہ ان دنوں کے واقعات اسے ہر چیز سے الگ کر دیں۔ مزاحمت ہمیشہ نعرے اور بلند آواز کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ اب بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دو سو راتوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس دوران بہت سے لوگ بدل چکے ہیں۔ جو شخص پہلی رات آیا تھا، غالباً وہ دو سویں رات والا وہی شخص نہیں ہے۔ اس نے بہت کچھ دیکھا، بہت سی خبریں سنیں، کچھ لوگوں کو کھویا، اس کی بعض امیدیں ماند پڑ گئیں اور شاید اسے کچھ نئی امیدیں بھی ملیں؛ لیکن اس نے ایک چیز کو برقرار رکھا: وہ تنہا نہیں رہنا چاہتا۔

رات کے یہ اجتماعات صرف ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام نہیں۔ جب انسان ہجوم میں ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ خوف جو گھر میں بہت بڑا اور بھاری محسوس ہوتا تھا، جب دوسرے لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے تو اس کی شکل بدل جاتی ہے۔ غم بھی ایسا ہی ہے۔ کچھ غم تنہائی میں ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں، لیکن جب آپ دیکھتے ہیں کہ چند قدم کے فاصلے پر کوئی اور بھی اسی خاموشی میں ہے، اس کی آنکھوں میں بھی وہی تھکن ہے اور اس کے دل میں بھی وہی تشویش، تو ان غموں کو برداشت کرنا کچھ آسان ہو جاتا ہے۔

یہ دو سو راتیں، ڈٹے رہنے کی داستان ہیں: ان لوگوں کی داستان جنہوں نے اس معاملے کے طول پکڑنے کے باوجود اسے اپنے درمیان فاصلے کا سبب نہیں بننے دیا۔ شاید بعض راتوں میں ان کی تعداد کم ہوئی ہو، شاید کچھ لوگوں میں ابتدائی راتوں جیسی توانائی باقی نہ رہی ہو، لیکن صرف یہ حقیقت کہ اب بھی کچھ لوگ آ رہے ہیں، اپنے اندر بہت معنی رکھتی ہے۔

دو سو راتوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ تھکن بھی موجود ہے۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص دو سو راتوں سے آ رہا ہے، وہ ناقابلِ شکست انسان نہیں ہے۔ ممکن ہے کسی رات اس کا گھر سے نکلنے کو دل نہ چاہے۔ ممکن ہے وہ تھکا ہوا ہو، اس کا دل نہ لگ رہا ہو یا بری خبروں سے اس کا دل بھر چکا ہو؛ لیکن اگلی رات وہ دوبارہ آ جائے۔ یہی ’’دوبارہ آنا‘‘ شاید مزاحمت کی سب سے حقیقی شکلوں میں سے ایک ہے۔

اب ہم دو سو راتوں تک پہنچ چکے ہیں: اب بھی لوگ موجود ہیں۔ اب بھی سڑک گواہ ہے۔ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ ترجیح دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، بجائے اس کے کہ ہر شخص الگ الگ اپنے خوف اور تھکن سے نبرد آزما ہو۔

دو سو راتیں گزر چکی ہیں۔ کل رات ایک اور رات ہوگی۔ شاید اگلی تعداد بہت سے لوگوں کے لیے محض ایک عدد ہو، لیکن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے یہ راتیں گزاری ہیں، ہر رات اس چیز کا ایک حصہ ہے جسے اب ان کی یادداشت سے آسانی سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

اور شاید مزاحمت کا مفہوم یہی ہے؛ کہ دو سو راتوں کے بعد بھی، تمام تر تھکن کے باوجود، آپ کے پاس آنے کی اب بھی کوئی وجہ موجود ہو۔

News ID 1941380

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha